ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دلت ہراساں روک تھام قانون میں ترمیم پر غور کر سکتے ہیں:مرکزی وزیر اٹھاؤلے

دلت ہراساں روک تھام قانون میں ترمیم پر غور کر سکتے ہیں:مرکزی وزیر اٹھاؤلے

Sun, 09 Oct 2016 12:53:18    S.O. News Service

ناگپور،8 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مرکزی سماجی انصاف اورتفویض اختیارات کے وزیرمملکت رام داس اٹھاؤلے نے آج کہا کہ شیڈول کے مطابق پسماندہ قبائل(ہراساں روک تھام)قانون، 1989منسوخ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کی وزارت اس قانون میں ترمیم کے خلاف نہیں ہے۔اٹھاؤلے نے کہا کہ بڑی بحث کے بعد پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کیا تھا اور اس کا مقصد دلتوں کو ہراساں کئے جانے سے روکنا تھا۔ان معاملات سے نمٹنے کے لئے پولیس کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔بہر حال دلت لیڈر اور آر پی آئی کے صدر نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسے وقت میں جب سماج کا ایک طبقہ شیڈول پسماندہ قبائل(ہراساں روک تھام)قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، تو ان کی وزارت قانون میں ترمیم پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔اٹھاؤلے نے کہا کہ کسی بھی صورت میں قانون کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے صحیح قرار دیا جا سکے گا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ قانون کا استعمال معصوم لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے نہیں کیا جانا چاہئے۔

سیاسی طور پر متاثر کن مراٹھا برادری پورے مہاراشٹر میں بڑا خاموش محاذ نکال رہا ہے۔ان کے مطالبات میں ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ شیڈول کے مطابق پسماندہ قبائل(ہراساں روک تھام)قانون کو منسوخ کیا جائے۔یہ پوچھے جانے پر کہ جب کچھ دلت اس قانون کو اور مضبوط کرنے کی مانگ کر رہے ہیں تو کیا ایسے میں اس پر نظر ثانی کرنا ٹھیک ہو گا؟ اس پر اٹھاولے نے کہا کہ اس قانون کے تحت درج کئے جانے والے مقدموں کی تحقیقات ٹھیک طریقے سے کی جانی چاہئے ۔مراٹھا برادری کے لئے ریزرویشن کی مانگ پر اٹھاؤلے نے کہا کہ پٹیل اور جاٹ وغیرہ کی ایسی ہی مانگ کے پیش نظر کل ریزرو سیٹوں پر سپریم کورٹ کی طرف سے طے کی گئی 50فیصد کی حد کو پارلیمنٹ میں قانون منظورکے مطابق 75فیصد کر دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آر پی آئی 19اکتوبر کو شرڈی میں مراٹھا اور دلت برادریوں کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد کرنا جا رہا ہے۔


Share: